ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / طلاق اوروراثت پرلاء کمیشن کی تجویز مسلمانوں کیلئے ناقابل قبول: پرسنل لاء بورڈ

طلاق اوروراثت پرلاء کمیشن کی تجویز مسلمانوں کیلئے ناقابل قبول: پرسنل لاء بورڈ

Mon, 03 Sep 2018 11:30:33    S.O. News Service

نئی دہلی،3؍ستمبر(ایس او نیوز؍پریس ریلیز) گذشتہ دنوں لاء کمیشن نے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ سے ملاقات اور مسلم پرسنل لاء سے متعلق ایک سوال نامے کا جواب جاننے کی خواہش کی تھی ۔ بورڈ نے اپنے نقطۂ نظرکی وضاحت کی غرض سے اس دعوت کو قبول کیا ۔

بورڈ کے وفد نے اپنے ایک نائب صدرکی قیادت میں لاء کمیشن کے چیرمین پی ایس چوہان صاحب سے ملاقات بھی کی۔ اور سوالنامے کا تفصیلی جواب تحریری شکل میں ان کے حوالے کیا اورانہوں نے سنجیدگی کے ساتھ بورڈ کے وفد کو سنا۔لاء کمیشن کی طرف سے جو رپورٹ جاری ہوئی ہے اس سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ انہوں نے بورڈ کی رہنمائی سے روشنی حاصل کرنے کی کوشش کی ہے اوراس بات کو قبول کیا ہے کہ موجودہ مرحلہ میں ہندوستان جیسے کثیر مذہبی اور کثیر ثقافتی ملک میں یکساں سیول کوڈ کی ضرورت نہیں ہے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان جیسے ملک میں جہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے اورمختلف تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے طبقات موجود ہیں ، آئندہ بھی اس طرح کی کوشش غیر مفید ہوگی اوراس سے ملک کو فائدہ کے بجائے نقصان پہنچے گا۔

اپنے بیان میں مولانا رحمانی نے کہاکہ اس رپورٹ میں ضمنی طورپر کچھ اورباتیں بھی آگئی ہیں ، جیسے طلاق، وراثت ، اس سلسلے میں کمیشن کا نقطۂ نظر مسلمانوں کے لئے ناقابل قبول ہے ۔ کیونکہ مرد کو طلاق کا حق حاصل ہے اور بعض صورتوں میں مردوعورت کے درمیان حق میراث میں فرق رسم ورواج کا نتیجہ نہیں ہے جس کی اصلاح کرنے کا حکومت کو حق ہے ۔بلکہ یہ قرآن وحدیث سے ثابت ہے اور بڑی اہم مصلحتوں پر مبنی ہے ۔حکومت رواج کی اصلاح کرسکتی ہے لیکن کسی گروہ کے عقیدے اور مذہب کی اصلاح کا حق نہیں رکھتی ۔اسی طرح کمیشن نے شادی کی حد عمرکم کرنے کی بات کی ہے ۔یہ ایک مثبت سوچ ہے ۔ اس سے سماج میں بڑھتے ہوئے اخلاقی بگاڑ اور نوعمرلڑکوں اورلڑکیوں کی طرف سے پیش آنے والے جنسی جرائم کو روکنے میں مدد ملے گی۔ اسلام میں اگرچہ نابالغوں کے نکاح کی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی ہے لیکن مختلف مصالح کے تحت اس کی گنجائش رکھی گئی ہے ۔سماج کے بعض طبقات میں بچپن کی شادی کا رواج پایا جاتا ہے لیکن اس کی اصلاح ترغیب اور عوامی بیداری کے ذریعہ ہونی چاہئے۔ لوگوں کو اس کے نقصانات سمجھائے جانے چاہئیں اس کیلئے قانون سازی کی ضرورت نہیں ہے ۔ کیونکہ ہرمسئلہ کو قانون کے ذریعہ حل نہیں کیا جاسکتا ہے اور یہ بات بھی قابل غور ہے کہ مسلمانوں میں ایسی شادی کا رواج بہت کم ہے اورجیسے جیسے تعلیمی رجحان بڑھ رہا ہے کم عمری کی شادی کے واقعات کم ہوتے جارہے ہیں ۔

بورڈ کے ترجمان مولانا خالد سیف اﷲ رحمانی نے کہاکہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا موقف واضح ہے کہ مسلم پرسنل لاء مسلمانوں کے مذہب کا حصہ ہے اگر مسلمان بھی چاہیں تو اس میں تبدیلی نہیں کرسکتے۔ اس لئے حکومت کو ایسی کوششوں سے باز آجانا چاہئے ۔ ہاں بعض سماجی برائیاں دوسرے مذہبی گروہوں کی طرح مسلمانوں کے درمیان بھی پائی جاتی ہیں ان برائیوں کو دورکرنا چاہئے ۔ بورڈ اس کام کو اپنے شعبہ اصلاح معاشرہ کے ذریعہ اپنے وسائل کے مطابق انجام دے رہا ہے اگر حکومت اس شعبہ میں ہمارا تعاون کرناچاہے تو اس کا استقبال کریں گے ۔


Share: